خلاف وعدہ بہت ہوئے ہو کوئی تو وعدہ وفا کرو اب

خلاف وعدہ بہت ہوئے ہو کوئی تو وعدہ وفا کرو اب
ملا کے آنکھیں دروغ کہنا کہاں تلک کچھ حیا کرو اب
خیال رکھیے نہ سرکشی کا سنو ہو صاحب کہ پیری آئی
خمیدہ قامت بہت ہوا ہے جھکائے سر ہی رہا کرو اب
کہاں ہے طاقت جو میرؔ کا دل سب ان بلاؤں کی تاب لاوے
کرشمے غمزے کو ناز سے ٹک ہماری خاطر جدا کرو اب
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *