کلید پیچ اگر رقعہ یار کا آوے

کلید پیچ اگر رقعہ یار کا آوے
تو دل کہ قفل سا بستہ ہے کیسا کھل جاوے
ہماری جان لبوں پر سے سوئے گوش گئی
کہ اس کے آنے کی سن گن کچھ اب بھی یاں پاوے
بہار لوٹے ہیں میرؔ اب کے طائر آزاد
نسیم کیا ہے دو گل برگ اگر ادھر لاوے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *