کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے

کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے
کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے
نہ سوز جگر خاک میں بھی گڑا
موئے پر پرآتش مری قبر ہے
گلستاں کے ہیں دونوں پلے بھرے
بہار اس طرف اس طرف ابر ہے
جو درویش پہنے ہے ببری لباس
تو پھر عینہٖ شیر ہے ببر ہے
در کعبہ پر کفر بکتا ہے میرؔ
مسلماں نہیں وہ کہن گبر ہے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *