گذار ابر اب بھی جب کبھو ایدھر کو ہوتا ہے

گذار ابر اب بھی جب کبھو ایدھر کو ہوتا ہے
ہماری بیکسی پر زار باراں دیر روتا ہے
ہوا مذکور نام اس کا کہ آنسو بہ چلے منھ پر
ہمارے کام سارے دیدۂ تر ہی ڈبوتا ہے
بجا ہے سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہوتے ہیں
جو ہمدم ایسے جاتے ہیں تو ماتم سخت ہوتا ہے
نہ کی نشوونما کامل نہ کام اپنا کیا حاصل
فلک کوئی بھی دل سے تخم کو بے وقت بوتا ہے
ہلانا ابروؤں کا لے ہے زیر تیغ عاشق کو
پلک کا مارنا برچھی کلیجے میں چبھوتا ہے
کہاں اے رشک آب زندگی ہے تو کہ یاں تجھ بن
ہر اک پاکیزہ گوہر جی سے اپنے ہاتھ دھوتا ہے
لگا مردے کو میرے دیکھ کر وہ ناسمجھ کہنے
جوانی کی ہے نیند اس کو کہ اس غفلت سے سوتا ہے
پریشاں گرد سا گاہے جو مل جاتا ہے صحرا میں
اسی کی جستجو میں خضر بھی اوقات کھوتا ہے
نہ رکھو کان نظم شاعران حال پر اتنے
چلو ٹک میرؔ کو سننے کہ موتی سے پروتا ہے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *