گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو

گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو
دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو
خوب نہیں اے شمع کی غیرت ساتھ رہیں بیگانے دو
کب فرمان پہ تیرے ہوئے یہ بازو کے پروانے دو
ایسے بہانہ طلب سے ہم بھی روز گذاری کرتے ہیں
کب وعدے کی شب آئی جو ان نے کیے نہ بہانے دو
تیرستم اس دشمن جاں کا تا دو کماں پر ہو نہ کہیں
دل سے اور جگر سے اپنے ہم نے رکھیں ہیں نشانے دو
کس کو دماغ رہا ہے یاں اب ضدیں اس کی اٹھانے کا
چار پہر جب منت کریے تب وہ باتیں مانے دو
غم کھاویں یا غصہ کھاویں یوں اوقات گذرتی ہے
قسمت میں کیا خستہ دلوں کی یہ ہی لکھے تھے کھانے دو
خال سیاہ و خط سیاہ ایمان و دل کے رہزن تھے
اک مدت میں ہم نے بارے چوٹٹے یہ پہچانے دو
عشق کی صنعت مت پوچھو جوں نیچے بھوؤں کے چشم بتاں
دیکھیں جہاں محرابیں ان نے طرح کیے میخانے دو
رونے سے تو پھوٹیں آنکھیں دل کو غموں نے خراب کیا
دیکھنے قابل اس کے ہوئے ہیں اب تو یہ ویرانے دو
دشت و کوہ میں میرؔ پھرو تم لیکن ایک ادب کے ساتھ
کوہکن و مجنوں بھی تھے اس ناحیے میں دیوانے دو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *