گردن کش زمانہ تو تیرا اسیر ہے

گردن کش زمانہ تو تیرا اسیر ہے
سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے
چشمک کرے ہے میری طرف کو نگاہ کر
وہ طفل شوخ چشم قیامت شریر ہے
تنکا سا ہو رہا ہے تن آگے ہی سوکھ کر
اب ننگ کیا فقیر جو سب میں حقیر ہے
جھڑ باندھ دے ہے رونے جو لگتا ہوں صبح کو
ہے چشم تر کہ غیرت ابر مطیر ہے
اک دو اجل رسیدہ جو صید آئے کب کھنچا
پرپیچ جال گیسوؤں کا جرگہ گیر ہے
جوں جوں بڑھاپا آتا ہے جاتے ہیں اینٹھتے
کس مٹی کا نہ جانیے اپنا خمیر ہے
اس خوبصورتی سے نہ صورت نظر پڑی
سورت تلک تو سیر کی وہ بے نظیر ہے
پر جوہر اس کی تیغ ہے نامہ برائے قتل
پیغام مرگ عاشقوں کو اس کا تیر ہے
پوچھو اسی سے مضطرب الحال دل کی کچھ
وہ آفتاب چہرۂ روشن ضمیر ہے
جوں طفل شوخ و شنگ و جوان بلند طبع
شائستۂ فلک ہے اگر چرخ پیر ہے
فریاد شب کی سن کے کہا بے دماغ ہو
دیکھو تو اس بلا کو یہ شاید کہ میرؔ ہے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *