گرفتہ دل ہوں سر ارتباط مجھ کو نہیں

گرفتہ دل ہوں سر ارتباط مجھ کو نہیں
کسو سے شہر میں کچھ اختلاط مجھ کو نہیں
جہاں ہو تیغ بکف کوئی سادہ جا لگنا
اب اپنی جان کا کچھ احتیاط مجھ کو نہیں
کرے گا کون قیامت کو ریسماں بازی
دل و دماغ گذار صراط مجھ کو نہیں
جسے ہو مرگ سا پیش استحالہ کیوں نہ کڑھے
اس اپنے جینے سے کچھ انبساط مجھ کو نہیں
ہوا ہوں فرط اذیت سے میں تو سن اے میرؔ
تمیز رنج و خیال نشاط مجھ کو نہیں
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *