جو اپنے اچھے جی کو ایسی بلا لگائی
تھا دل جو پکا پھوڑا بسیاری الم سے
دکھتا گیا دو چنداں جوں جوں دوا لگائی
ذوق جراحت اس کا کس کو نہیں ہے لیکن
بخت اس کے جس کے ان نے تیغ جفا لگائی
دم بھی نہ لینے پایا پانی بھی پھر نہ مانگا
جس تشنہ لب کو ان نے تلوار آ لگائی
تھا صید ناتواں میں لیکن لہو سے میرے
پاؤں پہ ان نے اپنے بھر کر حنا لگائی
بالعکس آج اس کے سارے سلوک دیکھے
کیا جانوں دشمنوں نے کل اس سے کیا لگائی
جو آنسو پی گیا میں آخر کو میرؔ ان نے
چھاتی جلا جگر میں اک آگ جا لگائی