نہ تنہا داغ نو سینے پہ میرے اک چمن نکلے

نہ تنہا داغ نو سینے پہ میرے اک چمن نکلے
ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے
گماں کب تھا یہ پروانے پر اتنا شمع روئے گی
کہ مجلس میں سے جس کے اشک کے بھر بھر لگن نکلے
کہاں تک نازبرداری کروں شام غریباں کی
کہیں گرد سفر سے جلد بھی صبح وطن نکلے
جنوں ان شورشوں پر ہاتھ کی چالاکیاں ایسی
میں ضامن ہوں اگر ثابت بدن سے پیرہن نکلے
حرم میں میرؔ جتنا بت پرستی پر ہے تو مائل
خدا ہی ہو تو اتنا بتکدے میں برہمن نکلے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *