ہمسایۂ چمن یہ نپٹ زار کون ہے

ہمسایۂ چمن یہ نپٹ زار کون ہے
نالان و مضطرب پس دیوار کون ہے
مژگاں بھی پھر گئیں تری بیمار چشم دیکھ
دکھ درد میں سوائے خدا یار کون ہے
نالے جو آج سنتے ہیں سو ہیں جگر خراش
کیا جانیے قفس میں گرفتار کون ہے
آیا نہ آشیانۂ بلبل میں کام بھی
مجھ سا تو خار باغ میں بیکار کون ہے
کیا فکر ملک گیری میں ہے تھے جو پیش ازیں
ان میں سے تو ہی دیکھ جہاندار کون ہے
بازار دہر میں ہے عبث میرؔ عرض مہر
یاں ایسی جنس کا تو خریدار کون ہے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *