یا بادۂ گلگوں کی خاطر سے ہوس جاوے

یا بادۂ گلگوں کی خاطر سے ہوس جاوے
یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے
شورش کدۂ عالم کہنے ہی کی جاگہ تھی
دل کیا کرے جو ایسے ہنگامے میں پھنس جاوے
دل ہے تو عبث نالاں یاران گذشتہ بن
ممکن نہیں اب ان تک آواز جرس جاوے
اس زلف سے لگ چلنا اک سانپ کھلانا ہے
یہ مارسیہ یارو ناگاہ نہ ڈس جاوے
میخانے میں آوے تو معلوم ہو کیفیت
یوں آگے ہو مسجد کے ہر روز عسس جاوے
چولی جہاں سے مسکی پھر آنکھیں وہیں چپکیں
جب پیرہن گل بھی اس خوبی سے چس جاوے
ہے میرؔ عجب کوئی درویش برشتہ دل
بات اس کی سنو تم تو چھاتی بھی بھلس جاوے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *