وصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی
میں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب
دھوم ہے اس کی رہگرائی کی
خندۂ یار سے طرف ہو کر
برق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں
دیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منھ لگایا نہ دختر رز کو
میں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے
عمر نے سخت بے وفائی کی
کوہکن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے
دیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارے
ساحری کی کہ دلربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی
برسوں تک ہم نے جبہ سائی کی
میرؔ کی بندگی میں جانبازی
سیر سی ہو گئی خدائی کی