تو ابھی رہ گزر میں ہے ،

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر
تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر
جس کا عمل ہے بے غرض ، اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر
گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار
طائرک بلند بال ، دانہ و دام سے گزر
کوہ شگاف تیری ضرب ، تجھ سے کشاد شرق و غرب
تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر
تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر!
لندن میں لکھے گئے
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *