وہ میری تنگی داماں کا گلہ کرتا ہے
دیر سے آج میرا سر ہے تیرے زانوں پر
یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے
میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفاں کو
تو میرے دل کے دھڑکنے کا گلہ کرتا ہے
رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں
جیسے جھومر تیرے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے
کون کافر تجھے الزام تغافل دے گا
جو بھی کرتا ہے محبت کا گلہ کرتا ہے
قتیل شفائی