آسائش امروز

آسائش امروز
اِس سے پہلے کہ گزر جائیں یہ لمحات نشاط
اِس سے پہلے کہ یہ کلیاں بھی فسردہ ہو جائیں
اِس سے پہلے کہ بدل جائے مزاجِ احساس
اِس سے پہلے کہ بدل جائے نظر کا انداز
اِس سے پہلے کہ نظاروں کو نظر لگ جائے
اِس سے پہلے کہ لباسِ شبِ خاموش ہو چاک
اِس سے پہلے کہ ستاروں کو نظر لگ جائے
جزبہ شوق کو اِظہار پہ آمادہ کرو
لبِ خاموش کو گفتار پہ آمادہ کرو
اور اگر تم کو محبت ہی نہیں ہے مجھ سے
تو مرے بُت کدہ وہم کو ویراں کر دو
غلط انداز اداؤں کو ابھی سمجھا لو
غلط اندیش وفاؤں کو پشیماں کر دو
حُسن کا عشق نگہباں، مگر اے جانِ جہاں
وقت سے، شیوہ لمحات سے دل ہے لرزاں
کون جانے کہ سرِ شام جلیں کیسے چراغ
کس کو معلوم ، دمِ صبح جوانی ہو کہاں
چاند، یہ رات کے سینے کا دہکتا ہوا داغ
چاند، یہ کتنے ہی مایوس اندھیروں کا چراغ
اِس نے احرام کی تہذیب کو مرتے دیکھا
بے نیازانہ زمانے کو گزرتے دیکھا
سرد مہری بھی زمانے کی ہے اس کو معلوم
اِس نے تاریخ کے ہر زخم کو بھرتے دیکھا
اِس نے بابل کے طرب خیز چمن زادوں میں
رنگِ تاریخ نکھرتے ہوئے دیکھا ہو گا
یہ اجنتا و ایلورا کے سیہ خانوں پر
اُن کی شب ہائے درخشاں میں بھی چمکا ہوگا
وقت گزرا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا
سازِ امروز کا ہر تار بکھر جائے گا
اے متاعِ دل و جاں! رات گزر جائے گی
وقت اِک بات ہے اور بات گزر جائے گی
حُسن اور عشق کے پابند نہیں ہیں یہ لمحات
فرصتِ شوق و عنایات گزر جائے گی
سازِ ہستی ہمہ تن سوز ہے اور کچھ بھی نہیں
ہر سحر، شامِ غم اندوز ہے اور کچھ بھی نہیں
صنعت و فلسفہ و فن و تخیّل کا مآل
شاید آسایشِ اِمروز ہے اور کچھ بھی نہیں
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *