ایک گروہ

ایک گروہ
ایک گروہ ہے کہ ہے، بے حضر اور بے سفر
ایک بریدہ پا نمود، ایک بریدہ سر وجود
اپنے سوال کا زیاں، اپنے جوان کا ضرر
بار زمیں ہے اور ہے بار زماں ہے اور
خوں شدگی کی اشتہا، زرد و زبون و پرزیاں
خون ہدر کا ہرمیاہ خوار و خزندہ و خجل
خون نہیں ہے کوئی لوح، خون نہیں کوئی قلم
خون نہیں کوئی قضا، خون نہیں کوئی قدر
خون کوئی خدا نہیں، جو کبھی رایگاں نہ جائے
جون ایلیا
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *