حشر دل شہر میں بپا تو ہو

حشر دل شہر میں بپا تو ہو
کوئی گھر سے نکل سکا تو ہو
لذتِ ترکِ مدّعا ہو نصیب
پر میاں کوئی مدّعا تو ہو
نگھروں کو تو راس آئے گی
کوئی بلقیسَ بے سبا تو ہو
خود کو حال اپنا میں‌سناؤں جناب
پر کبھی اپنا سامنا تو ہو
ہم تو گھر میں بھی خاک اڑا لیںگے
کوئی گھر سے گیا ہوا تو ہو
بود، جز لمحہ کچھ نہیں‌شاید
کوئی لمحہ گزر رہا تو ہو
اک خموشی میں سخن برپا
کچھ کہا تو ہو،کچھ سنا تو ہو
جون ایلیا
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *