خود سے ہم اک نَفَس ہلے بھی کہاں

خود سے ہم اک نَفَس ہلے بھی کہاں
اُس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں
غم نہ ہوتا جو کھِل کے مرجھاتے
غم تو یہ ہے کہ ہم کھِلے بھی کہاں
خوش ہو سینے کی اِن خراشوں پر
پھر تنفس کے یہ سلے بھی کہاں
آگہی ن کیا ہو چاک جسے
وہ گریباں بھلا سِلے بھی کہاں
اب تامل نہ کر دلِ خود کام
روٹھ لے، پھر یہ سلسلے بھی کہاں
خیمہ خیمہ گزار لے یہ شب
صبح دم یہ قافلے بھی کہاں
آؤ، آپس میں کچھ گلے کر لیں
ورنہ یوں ہے کہ پھر گلے بھی کہاں
جون ایلیا
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *