جان جاں، جانان جاں، افسوس میں
رایگانی میں نے سونپی ہے تجھے
اے مری عمر رواں، افسوس میں
اے جہان بے گمان و صد گماں
میں ہوں اوروں کا گماںافسوس میں
نا بہ ہنگامی ہے میری زندگی
میں ہوں ہر دم ناگہاں، افسوس میں
زندگی ہے داستاں افسوس کی
میں ہوں میرِ داستاں، افسوس میں
اپنے برزن، اپنے ہی بازار میں
اپنے حق میں ہوں گراں، افسوس میں
گم ہوا اور بے نہایت گم ہوا
مجھ میں ہے میرا سماں، افسوس میں
میرے سینے میں چراغ زندگی
میری آنکھوں میں دھواں افسوس میں
مجھ کو جز پرواز کچھ چارہ نہیں
ہوں میں اپنا آشیاں، افسوس میں
ہے وہ مجھ میں بے اماں، افسوس وہ
ہوں میں اس میں بے اماں، افسوس میں
خود تو میں ہوں یک نفس کا ماجرا
میرا غم ہے جاوداں، افسوس میں
وہ پیالہ ناف کا ہے نشہ خیز
اور میں از تشنگاں، افسوس میں
ایک ہی تو باغ حسرت ہے مرا
ہوں میں اس کی ہی خزاں، افسوس میں
ہر نفر حمّالہ ہے یا بو لہب
یہ ہے میرا خانداں، افسوس میں
اے زمین و آسماں، افسوس تم
اے زمین و آسماں، افسوس میں
اے خداوندِ جہاں، افسوس تُو
اے خداوندِ جہاں، افسوس میں
جون ایلیا