ہیکلوں کے دراز ریشو، ژندہ پوش کاہنو! میں پہلے مغرب کی زمینوں سے اور پھر مشرق کی زمینوں سے تمھاری زمین میں آیا ہوں۔ میں نے شہروں کی اس شاہ بانو، خطّوں کی اس خو زادی اور پھر بستیوں کی اس بد بخت باندی کو اپنی دھول میں اٹی ہوئی پلکیں تھکا کر اپنی آنکھوں کے ڈھیلوں کی دکھن میں دیکھا ہے۔ اب میں تمھارے برج کے تلوؤں میں پڑا ہوں یا پھر میں نیچائیوں کی نیچائی میں کھڑا ہوں۔ کھوئی ہوئی آنکھو، اور فراز افراز کی نیلگونی میں سوئی سوئی ہوئی نگاہو! مجھے بتاؤ کہ اس برج کی سب سے اوپر کی منزل میں کیا ہے۔ کیا وہ سب سے اوپر کی منزل ہونے کے سوا ہے؟
اُر۔۔۔ کے لوگو! کون بولتی ہوئی سانسوں کو ہونٹوں پر لائے گا اور پوچھنے والے کو بھلا کون بتائے گا؟ امی صاروقا! تم یا تم سخن میں آؤ، ہمارے بڑوں کے بڑے میری کہن کے پھوہڑ پن پر نہ جاؤ اور تم بات کی بڑائی میں بڑ بڑاؤ ہاں تم ہی سناؤ وہ کچھ تم ہی سناؤ جسے نینوا، اشور، کلدانیہ اور ہاں اپنے اس معمور کے پزادوں کے سارے مزدور جانتے ہیں اور وہی نہیں، اسے تو آسمانوں کی ہیکلیں بھی جانتی ہیں اور بکھانتی ہیں۔ داڑھیوں کو آنسوؤں سے بھگو لو کہ پزادے کا پزادہ گھنگڑ ہو گیا ہے۔ تو اے نجانے کہاں کے مسافر! میں تجھے بتاتا ہوں اس برج کی سب سے اوپر کی منزل میں ایک چھپر کھٹ ہے اور اس چھپر کھٹ پر خدایاں خدا آرام کر رہا ہے۔ فیسون کے بہاؤ کے پھیلاؤ اور اس کے پاٹ کی گیلاہٹ نے اپنی بھیگی ہوئی ہواؤں سے برج کی سب سے اوپر کی منزل کی رمز کو ہمیشہ ہمیش کی نیند میں چھو لیا ہے اور ماد، عیلام کے صلبوں اور رحموں کے گاڑھے پانیوں اور گنڈاروں کو بڑ بڑاتے ہوئے خوابوں میں مبہوت کر دیا ہے۔
اپنے بائیں طرف بیٹھ کر، میں نے دائیں طرف کی جگہ گھیر لی ہے
تُو جو تُو ہے سو، تجھ کو جگہ گھیرنے کی ہوس ہے
سو، تیری ہوس نے جہت سے جہت تک بھلا لا جہت کے سوا کیا کمایا
کیا کمایا، کسی نے بھی گہرائی میں اور چوڑائی میں اور لمبائی میں
کیا کمایا بھلا؟
تو نے پھیلاؤ سے کچھ بھی پایا بھلا، جو ترے جسم کی جلد کو چھو رہا ہے
خبر ہے تجھے وہ ترے جسم کی جلد سے لا نہایت کی دوری میں
موجود ہو تو بڑی بات ہے
پر، وہ ہونے میں تھا ہی نہیں اور ہے ہی نہیں
یوں کہ وہ تیری نسبت سے ہے ہی نہیں
میں نے پلکوں، پپوٹوں، بھوؤں اور آنکھوں کے ڈھیلوں کو
آنکھوں کی پتلی سے کتنا بچا کر رکھا ہے
میرے ڈھیلوں کی گیلی سفیدی جو پتلی کو سیراب کرتی رہی ہے
بہت باؤلی ہے
یہ بونگی ہے
اس سے کہو تو نے جس رنگ کی لائیت کو وظیفے دیے ہیں
وہ بس سات دھوکوں کی دھومیں اڑاتی رہی ہے
یہ کس نے کہا رنگ ہی جسم ہے اور جنبش ہے اور وزن ہے
اور اب میں یہ بکتا ہوں یہ رنگ، یہ جسم اور جسم کے سارے احوال
یا چائے کے ایک فنجان کی بھاپ ہیں
یا مرے اس قرابے میں اس آن جو کچھ بچارہ گیا ہے
وہ اک گھونٹ ہے
یا کسی سے کئی گھونٹ پینے کے سوچے ہوئے کچھ بہانے ہیں
ایک یا دو کے اندازے کی جو مشقت ہے
وہ آسمانوں میں شاید خدا کی بھی نیندیں اڑا دے گی
اس ہول میں جب سے بھی ہے خدا
یوں کہو تم، اگر ہو بھی سکتا خدا تو وہ سوتا ہی رہتا
کہ اندازہ سب سے بڑا ہول ہے اور بس نیند ہے
اور مجھے نیند آنے لگی ہے
سو، میں پڑ رہوں بُرج کے پائے میں پڑ رہوں، پڑ رہوں میں
مگر کس کے پہلو میں پلکوں کے دَر بند ہوں؟
جون ایلیا
(راموز)