مرا ارادہ ہر آزمایش ہر ابتلا میں تلا ہوا ہے
دوام اور دائروں کے مابین میرا پرچم کھلا ہوا ہے
یہ میں ہوں، جس کا جلوس صدیوں کے مرحلوں سے گزر رہا ہے
یہ میرا تابوت ہے جو قوموں کے درمیاں گشت کر رہا ہے
تمھیں خبر ہے کہ میرا سینہ چھلا ہوا ہے!
مرا جگر خون ہو گیا ہے
تمھیں خبر ہے کہ میرے بازو کٹے ہوئے ہیں
میری لاشوں سے قرن ہا قرن کے مقاتل پٹے ہوئے ہیں
میں بے ادب، بدزبان، گستاخ قاتلوں میں گھرا ہوا ہوں
عتاب بھڑکاؤ، ان کے حق میں عتاب بھڑکاؤ
میں ظالموں کے خلاف نسلوں کی نفرتیں عام کر کے چھوڑوں گا
میں ساری دنیا میں ان کو بدنام کر کے چھوڑوں گا
جون ایلیا
(راموز)