ہو میاں جی ترا بھلا، تو جا
آپ اپنے سے کر کے اپنا سخن
چھل گیا ہے مرا گلا، تو جا
مجھ کو تیری تلاش کرنا ہے
لے میاں! خود سے میں چلا، تو جا
اب سجن! دونوں وقت ملتے ہیں
آرزو کا دیا جلا، تو جا
ہے مرے کو ترے خیال کی دھن
نہیں میں تیرا مبتلا ، تو جا
تیرے ہونے کی اور نہ ہونے کی
بات ہونا ہے برملا، تو جا
وصل ہر لمحے کی جدائی ہے
خود سے اور تجھ سے میں ٹلا، تو جا
جو ہنر کی نمو ہو دکھ، وہ ابھی
میرے دل میں نہیں پھلا، تو جا
تو جو ہے، میرا چارہ گر ہے تو
میں پیوں گا الا بلا، تو جا
جون ایلیا