ابھی تو صرف بلاوے کا استخارہ ہوا

ابھی تو صرف بلاوے کا استخارہ ہوا
مگر یہ دل اسی لمحے میں پارہ پارہ ہوا
مجھے کسی نے کہا نعت اچھی کہتے ہو
تمام عمر کا پورا ہر اک خسارہ ہوا
ضرور میری محبت میں تھی کمی کوئی
میں ان کے ہوتے ہوئے بھی جو بے سہارا ہوا
میں ان سے دور تھا اور ذرہ بھی نہیں تھا میں
میں ان کے در پہ گیا اور اک ستارہ ہوا
مجھے کسی بھی تشّنعی سے کچھ نہ یارا ہوا
میں اس قدر ہوں تری چاہتوں کا مارا ہوا
حضور آپ سے دوری پہ صبر مشکل ہے
نہ پوچھیں کس طرح اب تک مرا گزارا ہوا
چراغ سا کوئی جلنے لگا مرے اندر
دل و نگاہ میں روشن زمانہ سارا ہوا
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *