اپنی قسمت سے ہارا دل

اپنی قسمت سے ہارا دل
پھرتا ہے مارا مارا دل
چمکے ہر روز ہمارا دل
بن کے آنکھوں کا تارا دل
جانے اب کیوں تیرے غم سے
کر جائے روز کنارا دل
میں نے پوچھا تھا کون ہوں میں
دل اپنے آپ پکارا، دل
ہم کو تو بس اب آن بچا
آخر میں ایک سہارا دل
مل جائے گا ان گلیوں میں
روتا پھرتا بے چارہ دل
تیری امید کی ممٹی سے
ہم نے تھک ہار اتارا دل
جانے تم پر کیسے بیتا
ہم نے غمناک گزارا دل
فرحت عباس شاہ
(کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *