اداسی میں بہت سے اور دکھ بھی گھیر لیتے ہیں
اداسی میں کئی بھولی ہوئی باتیں بھی اکثر یاد آتی ہیں
اداسی میں نظر سنولائے جانے کے بہت امکان ہوتے ہیں
اداسی میں بھرے اور ہنستے بستے شہر بھی ویران ہوتے ہیں
اداسی میں ہوائیں بھی بہت ہی کھردری محسوس ہوتی ہیں
اداسی میں تو شبنم بھی برستی دھوپ لگتی ہے نصیبوں کو
اداسی میں تری آواز اکثر ہی سنائی دیتی رہتی ہے
اداسی میں تری خاموشیاں بھی گونجتی ہیں روح کے اندر
اداسی میں ہر اک موسم کی رنگت ہی بدل جاتی ہے لمحوں میں
اداس میں فضائیں آنسوؤں کی بھاپ سے بھیگی ہی رہتی ہیں
فرحت عباس شاہ