شہر بھر میں ترا بھرم ٹوٹے
پہلے تم توڑتے رہے پیماں
شاید اب کے مری قسم ٹوٹے
اب تو لگتا ہے جیسے مشکل میں
سلسلہ ہائے رنج و غم ٹوٹے
جیسے بت میں نے آ کے توڑے ہیں
اس سے پہلے بہت ہی کم ٹوٹے
میرے سب دشمنوں کی خواہش ہے
سب سے پہلے مرا قلم ٹوٹے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت)