اک پل میں بچھڑنا تجھے آسان بہت ہے

اک پل میں بچھڑنا تجھے آسان بہت ہے
اتنا ہی ستم مجھ پہ مری جان بہت ہے
تم اپنے لیے ڈھونڈ لو الزام علیحدہ
مجھ پر میری بے چینی کا بہتان بہت ہے
حیراں ہوں میں خلقت کے رویوں پہ بہت ہی
خلقت میری حیرانی پہ حیران بہت ہے
دو آنکھیں مرے پاس ہیں جو اجڑی ہوئی ہیں
اک دل ہے مرے پاس جو ویران بہت ہے
اک دشت ہے اس دشت میں تنہائی نہیں ہے
اک شہر ہے اور شہر بھی سنسان بہت ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *