بازار مصر

بازار مصر
رہن تھا پہلے ہی اپنا غم نگر والوں کے پاس
اور غصہ سرد خانے میں کہیں پابند تھا
سرد خانہ جو کہ شاید کائناتی جبر کا رد عمل ہے
حادثوں، آفات کی تو اب ہمیں عادت ہوئی ہے
لال آندھی اور سیہ خاموشیاں
اور مرگ چارہ گر بھی چونکاتی نہیں
چاند ٹوٹے
یا فضائیں جل اٹھیں
ڈور الجھے
یا ہوائیں مل اٹھیں خود اپنی پیشانی پہ خاک بے حسی
روز مرہ کے کئی معمول ہیں
شہر والوں نے تو اپنی حیرتیں بھی بیچ ڈالی ہیں یہاں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – خیال سور ہے ہو تم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *