بُزدلی

بُزدلی
اپنے نمناک خیالات چھپا لو اُن سے
جسم پہ اُن کے بنائے ہوئے معیار کی تختی ٹانگو
وہ جو ہر قافلہِ صبح کی نفی کرتے ہیں
اپنے اکھڑے ہوئے چہرے پہ تیقّن سا کوئی پیدا کرو
جس طرح سے بھی ہو ممکن
ورنہ
ہر درز بند کرو یوں کہ نہ سچ جھانک سکے
اپنی آواز پہ قابو پا کر
اُن کی آواز پہ ہر حال میں لبیک کہو
وہ جو
ہر نعرہء انکار پہ چُن دیتے ہیں میزانوں میں
ہر زباں اور ہر اک لفظ ہر اک آلہء صوت
موت بھی جن کو ہے گر یاد تو بس اوروں کی
میرے مصلوب مرے عہد کے مفلوج سنو
اپنے نمناک خیالات چھپا لو اُن سے
روح کے شہر کے حالات چھپا لو اُن سے
سارے دلدوز سوالات چھپا لو اُن سے
میں تمہارے لیے چھپ چھپ کے دعا مانگوں گا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – آنکھوں کے پار چاند)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *