کہ اُس کی میری جدائی ابھی نباہ میں ہے
تمہارا ہجر صدی دو صدی تو پالیں گے
ابھی کچھ اتنی سکت تو ہماری چاہ میں ہے
میں مطمئن ہوں کہ تو مطمئن نہیں دشمن
ابھی تو ایک یہی چال رزم گاہ میں ہے
عجب غرور مرے قلبِ منکسر میں ہے
عجیب عجز مری ذاتِ کج کلاہ میں ہے
میں پُر سکوں ہوں مضافات میں بسیرے پر
کہ شہر بھر کا تماشا مری نگاہ میں ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – سوال درد کا ہے)