بستر بازیافت

بستر بازیافت
آخرِ شب
جن جن تنہائیوں کے ساتھ راتیں بتائیں
جس جس جدائی کو گلے لگایا
جو جو دن بسر کیا
تصویر ہوتا چلا گیا
کبھی کانپتی لرزتی آواز پر
کبھی ساکت اور ٹھہری ہوئی بینائی پر
کبھی تھکے ہوئے چہرے پر
تم آئے ہو سب تصویروں پر پردہ سا پڑ گیا ہے
پھر بھی وقت سر سراتا ہے
سانس لیتا ہوں
تصویریں کسمساتی ہیں
اپنے اپنے سر جھنگ کے گھورنے لگتی ہیں
کبھی مجھے، کبھی تمہیں
تم ان کی طرف مت دیکھا کرو
تمہیں رُلا رُلا دیں گی
مجھے بھی بہت رُلایا کرتی تھیں
تمہارے آجانے سے پہلے
اب تو میں اکثر ہنس لیتا ہوں
تم چلے مت جانا
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *