کس قدر چھید ہیں وعدوں میں یہاں
مصلحت بات کی بس بات میں ہے
دشمنی حسن گنوا بیٹھی ہے
چاہتیں عیب ہوئیں
ترچھی تمناؤں کی ضد میں آکر
میز کے گرد پڑے کپڑوں میں جو جسم نظر آتے ہیں
چائے سے چائے تلک فکر کے سوداگر ہیں
اور بستر
کہ اگر مل کے کبھی سو جائیں
چھین لیتے ہیں پناہیں دل سے
خوف کچھ اور بڑھا دیتے ہیں
چھوٹی چھوٹی سی خرافات تو مفقود ہوئیں
کوئی محدود نہیں رہتا کبھی
ذات کمزور کسی بندش میں
قامتیں گنتے جہاں عمر گزر جاتی ہو
لفظ بہلاتے جہاں شہر فنا ہو جائیں
دوریاں چھپتے چھپاتے بھی بہت واضح ہوں
ایک وعدہ کہ بھلا کتنا بھی معصوم نظر آتا ہو
ایک پہچان کہ مضبوط لگے جتنی بھی
سب کا سب ریت کی دیوار، ہوا کا سایا
سب کا سب ذات کے ماحول کا گورکھ دھندہ
چھید در چھید بدن، خواب، مکاں
چھید در چھید وفا، خواب، خلش، خوف، خلا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ملو ہم سے)