ہر طرف ہر سمت
اندر بھی اور باہر بھی
ہم نے سوچا آنکھیں کھولیں
ہم نے اندھیرے میں سوچا اور بات
اندھیرے سے آگے نہ بڑھ سکی
پھر دھکیل دیا گیا
جبراً
آنکھیں چندھیا گئیں
اور شاید دل بھی چندھیا گیا
تیز روشنی کی طرح
تیز خوشی
تیز غم
اور تیز حیرت بھی
دل کو چندھیا دیتے ہیں
ہم نے اپنے چندھیائے ہوئے دل سے
تیز غم
اور تیز حیرت سے چندھیائے ہوئے دل سے
تمہیں چاہا
تمہیں چاہا اور خود سے محبت کی
یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود کو چاہا اور تم سے محبت کی
اب چھپتے پھر رہے ہیں
تمہاری اور اپنی موت سے
اور بھاگتے پھر رہے ہیں
اور موت ہمارے پیچھے بھاگتی پھر رہی ہے
تمہاری موت بھی
اور ہماری بھی
تمہاری موت جو تمہارے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آچکی ہے
شاید تمہیں پتہ ہو ہم تمہارے ساتھ مر چکے ہیں
وہ زندگی جو ہم تمہارے ساتھ بسر کرتے تھے
وہ حیات جس میں ہم تمہارے ساتھ تھے
اور تم ہمارے ساتھ چل رہے تھے
کب کے مر چکے ہیں
لیکن پھر بھی وہ موت ابھی گئی نہیں ہے
ابھی پوری کی پوری گئی نہیں ہے
ادھر ہی کہیں پھرتی ہے
کبھی تمہارے کپڑوں اور تمہاری خوشبو میں
کبھی تمہارے سامان اور تمہارے مزاج میں
کبھی تمہارے تعلق اور تمہارے انداز میں
کبھی ہماری آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں میں
ماری ماری پھرتی ہے
کبھی دکھے ہوئے دل میں اور کبھی رندھے ہوئے گلے میں
اور پھر خود ہماری موت
جسے ہمیں کبھی ڈھونڈنا نہیں پڑے گا
اور جو ہمارے سروں پر مسلط ہے
اور جو ہمارے راستوں میں پڑی ہے
اور جو ہماری مسافتوں میں چلتی ہے
اور جو ہمارے گھروں میں رہتی ہے
ہم پھر بھی اس سے بھاگتے پھرتے ہیں
پتہ نہیں
موت کے ڈر سے
یا خود اپنے ڈر سے
یا اپنے ارد گرد والوں کے ڈر سے
ہم بھاگتے پھرتے ہیں
اپنے جلے ہوئے پیروں کے ساتھ، اور ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے قدموں کے ساتھ
اور کچلی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ
اور مفلوج فرار کے ساتھ
ہم بھاگے پھرتے ہیں
اور موت ہنستی پھرتی ہے
ہنستی پھرتی ہے اور بھاگتی پھرتی ہے
خود ہمارے اندر ہی کہیں
فرحت عباس شاہ