کوئی ہم سے کنارا کر گیا ہے
کوئی چپ چاپ دنیا کے مظالم
تری خاطر گوارا کر گیا ہے
دل نازک صف تیشہ گراں میں
چلو کچھ تو گزارا کر گیا ہے
محبت آشنا کر کے ہمیں دو
سبھی کا دکھ ہمارا کر گیا ہے
ہے اگلا موڑ پھر بے چینیوں کا
زمانہ پھر اشارہ کر گیا ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – چاند پر زور نہیں)