تم جھوٹ بھی بولو
تو میں سب جانتے بوجھتے اُسے سچ سمجھوں
تم کوئی بھی وعدہ ایفا نہ کرو
تو میں کہوں کوئی مجبوری ہوگی
تم جو بھی غلطی کرو
میں اسے بھول چوک اور نادانستگی قرار دے دوں
میں جو صدیوں سے
خود اپنے خلاف تمہاری طرف سے دلیلیں اور تاویلیں
پیش کرتا چلا آ رہا ہوں
آخر کب تک
بولو اےمستقل مزاج
آخر کب تک
فرحت عباس شاہ