مدت بعد
دن گزرتے جا رہے ہیں
یہ سال بھی گزر گیا
جدائی اور زیادہ پرانی ہوگئی
دل اور زیادہ میلا ہو گیا
دکھ اور زیادہ گونگا ہو گیا
دن گزرتے جا رہے ہیں پچھلے سال
تمہارے وصال کی راکھ اتنی زیادہ پرانی نہیں تھی
تمہاری یادوں کی دھول
اتنی زیادہ اڑی اڑی سی نہیں تھی
جاں اتنی لٹی لٹی ہی نہیں تھی
کبھی کبھی فراموش بھی تو لوٹ لیتی ہے
سب کا سب
کچھ بھی نہیں چھوڑتی
میں لٹتا جا رہا ہوں
فراموشی لوٹتی جا رہی ہے
دن گزرتے جا رہے ہیں
فرحت عباس شاہ