شہر سے رسمِ محبت ہی نکالی جائے
ایک دو دن کی جدائی ہو تو خاموش رہوں
کیا یہ اچھا ہے کہ عادت ہی بنا لی جائے
ایک دن امن کا گہوارہ بنے گی دنیا
کاش دل سے مرے یہ خام خیالی جائے
اب تو قبریں بھی مری جان نہیں ہیں محفوظ
یہ بھی ممکن ہے کہ میت ہی اٹھا لی جائے
مال اسباب تو کیا باقی بچے گا فرحت
اتنا کافی ہے کہ عزت ہی بچا لی جائے
فرحت عباس شاہ