تمہیں واپس بلاتی ہیں

تمہیں واپس بلاتی ہیں
ہم اپنے آپ کو
پتھر انا کے خوف سے
جتنا بظاہر پر سکون رہنے کی عادت ڈال لیں
پر ہجر کی بے چین یخ بستہ ہوا سے
راکھ میں ڈھلتی تمنائیں بھی
آخر کپکپاتی ہیں
صدائیں لڑکھڑاتی ہیں
تمہیں معلوم تو ہو گا
کہ کچی عمر کی چاہت
ہزاروں سال بھی دل کے کسی گہرے سمندر میں رہے پابند
پر
پھر بھی کبھی مرتی نہیں
میں نے بہت عرصہ تمہیں
یادوں ، خیالوں، اور خوابوں کی نگاہوں سے کیا اوجھل
مگر جاناں
میں اپنے آپ سے اب لڑتے لڑتے تھک گیا ہوں
اور
اکیلے پن کے ویراں شہر میں جب شام ڈھلتی ہے
تو مدّت سے تھکی ہاری وفائیں
سوگ میں ڈوبے ہوئے کچھ گیت گاتی ہیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – اول)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *