کبھی بے سہاروں کے ذیل میں کبھی ملزموں کی قطار میں
تری چاہتوں سے نکل کے بھی میں کئی زمانوں میں قید ہوں
کہیں روز و شب کی شکست میں کہیں موسموں کے حصار میں
جو نکل گیا سو نکل گیا جو بھٹک گیا سو بھٹک گیا
انھیں جنگلوں کے ہجوم میں انھیں راستوں کے غبار میں
جو سسک سسک کے فنا ہوئی تھیں ہزار ہا مری خواہشیں
میری اپنی ذات کی کنج میں مرے اپنے غم کے فشار میں
وہ جنون میرا جنون تھا جو طواف تھا ترے شہر کا
یہ سکوت میرا سکوت ہے جو پڑا ہے راہگذار میں
فرحت عباس شاہ