تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل

تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل
یقیں سنبھال کے مل اور گماں سنبھال کے مل
ہم اپنے بارے کبھی مشتعل نہیں ہوتے
فقیر لوگ ہیں ہم سے زباں سنبھال کے مل
وجود واہمہ ویرانیوں میں گھومتا ہے
یہ بے کراں ہے تو پھر بے کراں سنبھال کے مل
یہ مرحلے ہیں عجب اس لیے سمندر سے
ہوا کو تھام کے مل بادباں سنبھال کے مل
اگرچہ دوست ہیں سارے ہی آس پاس مگر
اصول یہ ہے کہ تیر و کماں سنبھال کے مل
تو کیسی غیر یقینی فضا میں ملتا ہے
کوئی تو لمحہ کبھی درمیاں سنبھال کے مل
پھر اس کے بعد تو شاید رہے رہے نہ رہے
تمام عمر کا سوُد و زیاں سنبھال کے مل
فرحت عباس شاہ
(کتاب – روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *