اب خدا کا نہیں کچھ لوگوں کا ڈر رکھا ہے

اب خدا کا نہیں کچھ لوگوں کا ڈر رکھا ہے
قوم کو چند مسلمانوں نے دَھر رکھا ہے
میری سچائی کسی وقت نہ آلے اُس کو
اُس نے اس واسطے دل میں ابھی شر رکھا ہے
ایک سو دُکھ جو سبھی ساتھ لیے پھرتے ہیں
ایک سودُکھ جو ہر اک شخص نے گھر رکھا ہے
کس کی جرات کہ اڑائے مرے لفظوں کا مذاق
جب خدا نے مرے شعروں میں اثر رکھا ہے
اس سے خوش ہے توخدا اور اسے دے خوشیاں
جس کسی نے مری قسمت میں سفر رکھا ہے
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *