جان لیوا شبیں

جان لیوا شبیں
جان لیوا شبیں
چاہنے والیوں کے لیے
زہر قاتل ہیں جو
اُن کی آنکھوں سے نیندوں کو یوں نوچ کر
پھینک دیتی ہیں جیسے
کوئی راہروِ پیرہن سے اُلجھتی ہوئی شاخ کو
اور تمھیں یہ پتہ ہے
کہ چاہت کی ہر ابتدا شب کی بیداریوں سے ہے
جب تک کوئی آنکھ سیاہی میں لپٹے ہوئے آسمانوں سے
روشن ستارے نہ دل میں اتارے
تو یہ جان لو ایسی صحرا صفت آنکھ میں کوئی چہرہ
بسا ہی نہیں
میں ترے اعترافِ محبت سے ڈرتا نہیں
خوف ہے تو یہی ہے کہ اے جان من
جان لیوا شبیں چاہنے والیوں کے لئے زہرِ قاتل ہیں جو
تیری آنکھوں کے رستوں سے
دل میں اُتر کر
تمھیں عمر بھر
ہر نئی شب نئی زندگی دے کے پھر
ہر نئی شب نئی موت دے جائیں گی
ہر نئی شب نئی موت دے جائیں گی
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *