جسموں سے مستعار لی ہوئی خوشیاں زیادہ مقروض کر دیتی ہیں
میں نے اپنے پیٹ کی گود میں منہ چھپانا چاہا تو اور زیادہ غیر محفوظ ہو گیا
پھٹی پرانی لذتوں میں سکون ڈھونڈتے پھرتے ہو
خود اپنے ہاتھوں جان سے جاؤ گے
اپنے کندھوں پہ اپنی لاش اٹھائے پھرو گے
ننگی نہتی خواہشات کی قبروں میں قید
خود کی تھوک نگلو گے تو چھینٹے اڑ کر تمھارے دل پر جا پڑیں گے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – خیال سور ہے ہو تم)