کال پڑ جاتا وگرنہ شبِ تنہائی میں
وہ تو ہم ہیں کہ تمھیں ساتھ لیے پھرتے ہیں
تم ہمیں بھول گئے ہوتے پذیرائی میں
اس قدر جلد مراسم نہ بڑھا غیروں سے
عمر لگتی ہے یہاں خود سے شناسائی میں
سنگ لگتا ہے تو کیا رنگ مہک اٹھتے ہیں
تیر لگتے ہیں تو کھل اٹھتا ہوں رسوائی میں
وہ تو بس دل کی صدا روپ بدل لیتی ہے
کوئی رویا ہے کبھی بیٹھ کے شہنائی میں
فرحت عباس شاہ