جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا

جس قدر ہو گا پرانا، ہے نکھرنے والا
زخم جو دل پہ لگا ہے نہیں بھرنے والا
پھر تری یاد جنازوں کو لیے آتی ہے
پھر ترا سوگ مرے گھر ہے بکھرنے والا
وہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے مشکل میں
اس کو معلوم ہے سب میں نہیں ڈرنے والا
موت اک بچھڑی ہوئی شام ہے آنے والی
زندگی ریت کا دریا ہے اترنے والا
ایسا لگتا ہے زمانے کی نگاہوں سے مجھے
کوئی الزام مرے سر پہ ہے دھرنے والا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – کہاں ہو تم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *