جلتی بجھتی دھوپ میں سرد ہوا میں رہنا سیکھ لیا

جلتی بجھتی دھوپ میں سرد ہوا میں رہنا سیکھ لیا
اُس سے بچھڑ کے ہجر کا اِک اِک موسم سہنا سیکھ لیا
ساحل ساحل ٹکرا کے جب چُور ہوئے تو ہم نے بھی
دریا کی لہروں میں لہریں بن کر بہنا سیکھ لیا
اپنا دکھ بس اپنا ہی ہوتا ہے یہ جان لیا
اپنے آپ سے اپنی ساری باتیں کہنا سیکھ لیا
نئی نویلی تنہائی کی بانہیں ڈال کے بانہوں میں
رات گئے تک نہر کے کنارے بیٹھے رہنا سیکھ لیا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – اول)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *