جینے نہیں دیتی، ہمیں مرنے نہیں دیتی

جینے نہیں دیتی، ہمیں مرنے نہیں دیتی
یہ چاہ کسی گھاٹ اترنے نہیں دیتی
ہر بار نئی چوٹ لگا جاتی ہے دنیا
زخم دل ویران کو بھرنے نہیں دیتی
یہ شہر ہلاکت ہی سہی ٹھیک ہے لیکن
سچائی مجھے شہر سے ڈرنے نہیں دیتی
یہ لوٹ کے گھر جانے کی مجبوری مجھے تو
کھل کر ترے رستوں پہ بکھرنے نہیں دیتی
کیوں زیست مجھے رکھتی ہے مابین ہمیشہ
کیوں ٹھیک سے کچھ بھی مجھے کرنے نہیں دیتی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – مرے ویران کمرے میں)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *