حقیقت

حقیقت
خواب
کہو اے رنگوں کی تہوں میں چھپے ہوئے
اور خود ساختہ تاثرات سے سجے سجائے چہروں کے درمیان کیسے ہو
بینائیاں قابل اعتبار ہوتیں تو دھوکا وجد میں ہی کیوں آتا
میں نے تمہیں اپنی بند آنکھوں سے دیکھا ہے
اور دل کی کھلی آنکھوں سے پہچانا ہے
تمہاری سچائی، ساگی اور معصومیت کا حسن چمکتا ہے
اب پتہ نہیں
صرف تمہارا حسن ہے یا میرا
یا ہم دونوں کا
کیا تمہیں علم ہے کہ جسم کتنے بے مایہ ہوتے ہیں
اور روحیں کتنی حقیقی
جس تعلق
جس رشتے کی بنیاد روح ہو
اسے آنکھوں سے کیا دیکھنا
ہاتھ سے کیا چھونا
تمہاری کسی گمشدہ نظر
یا بھولی بسری نگاہ پر
مٹی سے بنی ہوئی کوئی عینک رہ گئی ہے
تو اسے اتار دو
یہ نہ ہو کہ میری روح اوجھل ہو جائے
تمہاری نظروں سے بھی
پہلے میں نے سوچا تھا
کبھی تمہیں
اپنی کوئی بہت ہی سوگورا اور اداس شام
یا کوئی بہت ہی ویران اور اجڑی ہوئی رات پوسٹ کروں گا
اب سوچا ہے
پتہ نہیں
اسے تمہارے پوسٹ بکس میں کب تک
ایک نیلے لفافے میں محبوس رہنا پڑے گا
تم آؤ بھی یا کہیں مصروف ہو جاؤ
جلد ناراض ہو جانے والے لوگوں کا کیا اعتبار
کب کسی بات پہ روٹھ کر دور چلے جائیں
مجھ سے بھی اور میری نظموں سے بھی
وہ چلے جائیں اور میں اکیلا رہ جاؤں
اپنی تمام تر تنہائیوں میں
اکیلا، تنہا اور ویران
چنبیلی کی کلیوں اور چاند کی کرنوں میں پھیلی ہوتی تنہائی
کتنا ساتھ دیتی ہے
تمہیں اندازہ تو ہو گا
مجھے اب اندازہ ہوا ہے
سب کچھ وقتی ہے
عارضی
اپنی اپنی جدائیوں میں لپٹا ہوا
رات میں نے خواب میں تمہیں دیکھا
اور پھر خود کو
میں ایک لمبی مسافت کے کنارے کھڑا ہوں
اور تم ایک صحرا کے کنارے
حد نگاہ تک پھیلی ہوئی دھند آلود فضاؤں میں صرف
دو پرندے اڑ رہے ہیں
اکیلے اکیلے
اور آسمان بہت ہی چپ چپ دکھائی دے رہا ہے
جیسے اسے کسی سانحے پہ بہت ہی دکھ پہنچا ہو
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *