خواب تو خواب میں تحلیل ہوا

خواب تو خواب میں تحلیل ہوا
ہجر کی عمر بہت ہوتی ہے
وصل کب خواب کی پابندی سے پابند ہوا
خواب تو پھیلے ہوئے رنگ ہیں کاغذ سے بنی تحتی پر
ہم انہیں ٹھوس میں کیا لے آئیں
ہجر اک لمبی گلی اور ہوائیں چپ چاپ
میں نہ کہتا تھا کہ اک روز بچھڑ جائیں گے
دیکھ لو آج بہت بچھڑے ہوئے ہیں ہم تم
تیرے بارے میں یہ لگتا ہے کہ جیسے دل سے
روز بیگار کوئی لیتا ہے
ناتواں قیدی ہے یہ اور مشقت ہے بہت
ایک گھبرائی ہوئی رت ہے مرے چاروں طرف
خواب ہر روز دکھاتے ہیں مجھے رنگوں بھری تاریکی
اور ڈراتے ہیں مجھے
اور رلاتے ہیں مجھے
ہم ترے عشق میں نکلے ہیں ہواؤں کی طرح
ہجر سے ٹھوکریں کھاتے ہوئے، ٹکراتے ہوئے
اجنبی شہر میں آنکلا کوئی نابینا
ہم کسے جھوٹ کی آنکھوں کا دلاسہ ماریں
ہم کسے نیند کی بے انت مسیحائی کے بارے سمجھائیں
رنگ کے رنگ میں تحلیل ہوئے جانے سے
آنکھ کے آنکھ میں
اور نیند کے نیند میں تحلیل ہوئے جانے سے
خواب تو خواب میں تحلیل ہوا
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *