خواب میں بھی دیوانوں کو

خواب میں بھی دیوانوں کو
تیرا رہا خیال بہت
تجھ کو واضح کرنے میں
مجھ کو کتنے سال لگے
جنگل میں تھے دور تلک
پانی کے تالاب بہت
پھول کنول کے ہوتے ہیں
پھر بھی تو نایاب بہت
صاف پتہ لگ جاتا ہے
لگے ہوا بھی زخموں کو
زخموں سے مجبور ہوئے
بھولے رسموں کی باتیں
روحوں کے رستوں پر ہم
بھولے جسموں کی باتیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – عشق نرالا مذہب ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *